جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ایک ممتاز پہلو
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ایک ممتاز پہلو یہ ہے کہ آپ
کا سن مبارک اکثر مورخین نے صرف اٹھارہ سال لکھا ہے۔ اس مختصر لیکن برکتوں
اور سعادتوں سے سرشار عمر اس قدر زیبا، باشکوہ اور فعال و پیغام آفریں ہے
کہ اب تک آپ کی ذات مبارک پر بے شمار کتابیں اور مقالے قلمبند ہو چکے ہیں۔
پھر بھی ارباب فکر و نظر کا خیال ہے کہ اب بھی سیدہ النساء العالمین کی
انقلاب آفریں شخصیت و عظمت کے بارے میں حق مطلب ادا نہیں ہو سکا ہے۔ آپ کے
فضائل و کمالات کے ذکر و بیان سے نہ صرف ہمارے قلم و زبان عاجز و ناتواں
ہیں بلکہ معصومین ع کو بھی بیان و اظہار میں مشکل کا سامنا رہا ہے۔ پھر بھی
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحارالانوار کی چھٹی جلد میں معصومۂ عالم کی
ولادت سے متعلق احادیث و روایات میں نقل شدہ جن تمہیدوں اور تذکروں کو
قلمبند کیا ہے وہ خود ایک مبارک و مسعود وجود اور غیر معمولی انسان کے ظہور
پر دلالت کرتے ہیں۔
اس طرح کی روایات حتی اہلبیت پیغمبر (س) میں بھی کسی
اور کے لئے نقل نہیں ہوئی ہیں
خداوند تبارک و تعالی نے آپ کی شان میں سورہ کوثر نازل فرمائی۔ "اے نبی! ہم
نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے"۔ سورہ کوثر کے علاوہ جیسا کہ مفسرین و مورخین
نے لکھا ہے سورہ نور کی پنتیسویں آیت بھی آپ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں ایک دن ہم
مسجدالنبی میں بیٹھے تھے کہ ایک قاری نے آیت "فی بیوت اذن اللہ ۔۔۔" کی
تلاوت کی، میں نے سوال کیا: "اے خدا کے رسول یہ گھر کون سے گھر ہیں؟"، حضرت
نے جواب میں فرمایا: "انبیا(ع) کے گھر ہیں"، پھر اپنے ہاتھ سے فاطمہ سلام
اللہ علیہا کے گھر کی طرف اشارہ فرمایا۔ مورخین نے لکھا ہے: "جناب فاطمۂ
زہرا سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی، سخت ترین مصیبتوں سے روبرو رہی ہے اور
آپ نے ہمیشہ اپنی بے مثال معنوی قوتوں اور جذبوں سے کام لیکر نہ صرف یہ کہ
مشکلات کا صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ ہر مرحلے میں اپنے مدبرانہ
عمل و رفتار اور محکم و استوار عزم سے بڑے بڑے فتنوں اور سازشوں کا سد باب
کیا ہے"۔ گویا ان آزمائشوں سے گزرنے کے لئے قدرت نے ان کا انتخاب کیا تھا
کیونکہ کوئی اور ان کو تحمل نہیں کر سکتا تھا اور یہ وہ حقیقت ہے جو صدر
اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنے والا ہر محقق جانتا اور تائید کرتا ہے۔ معصومۂ
عالم کا کردار ولادت سے شہادت تک اس قدر نورانی، پر شکوہ اور جاذب قلب و
نظر ہے کہ خود رسول اسلام (ص) نے، جنکی سیرت قرآن نے ہر مسلمان کے لئے اسوہ
قرار دی ہے، جناب فاطمہ (س) کی حیات کو دنیا بھر کی خواتین کیلئے ہر دور
اور ہر زمانے میں سچا اسوہ اور نمونۂ عمل قرار دیا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ
سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جتنی محبت اپنی
بیٹی فاطمہ (س) سے کرتے تھے اتنی محبت کسی سے نہیں کرتے تھے۔ سفر سے جب بھی
پلٹتے، بڑی بیتابی اور اشتیاق کے ساتھ سب سے پہلے فاطمہ (س) کی احوال پرسی
کرتے تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے
جناب فاطمہ (س) کی تعریف کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: "خدا نے فاطمہ کا
نور زمین و آسمان کی خلقت سے بھی پہلے خلق کیا"، کسی نے سوال کیا: "پس
فاطمہ انسان کی جنس سے نہیں ہیں ؟!" تو رسول اکرم (ص) نے جواب دیا: " فاطمہ
انسانی لبادہ میں ایک حور ہیں"۔
No comments:
Post a Comment